*عنوان* *

حضرت امام حسیؓن مظلوم نہیں، آگاہ تھے* آج کل کے اس دور میں میں نے دیکھا کے لوگ جب بھی کربلا اور حضرت امام حسین کی قربانی کا ذکر مبارک کرتے ہیں تو لوگ کائنات کی اس عظیم ہستی کو انتہائی مظلوم لاچار بے بس بے آسرا اور کمزور ترین بنا کے پیش کرتے ہیں میری محبت اور میرا ایمان اس بات کو تسلیم نہی کرتا کیونکہ جب میں ان کے نسب کو دیکھتا ہوں ان کے مقام کو دیکھتا ہو ان کے اختیار کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ نظر آتا ہے کے وہ عظیم ہستی جنکے ناناﷺ نبیوں کے سردار جنکے باباؓ ولیوں کے سردار والدؓہ جنتی خواتین کی سردار اور امامؓ خود جنتی نوجوانوں کے سردار فرشتوں کے سردار جن کے گھر بغیر اجازت اندر نا آئیں جن کے کپڑے جنت سے آتے ہوں جب اتنے نسب ہو تو وہ مظلوم نہی وہ ہر حالات میں سردار ہیں اور وہ اپنی شہادت سے با خوبی آگاہ تھے بس وہ اللّهﷻ کی رضا میں راضی ہوے اگرحضرت اسماعؑیل کے پاؤں کے نیچے سے پانی نکل سکتا ہے تو حضرت امام حسیؓن کے لیے بھی پانی آ سکتا تھا شاؓہ اک بار جو کھ دیتے مولاﷻ پانی کربلا



 تجھ سے سمبھالےنہ سمبھلتاپانی لیکن یہ دنیا کو بتانا مقصود تھا کہ لوگوں دین بہت عظیم ہے اس کے لیے ہر طرح کی قربانی دے دینا پر کبھی کسی فاسق فاجر کے سامنے نہی جھکنا ہمیں امؓام کی بہادری کا قائل ہونا چاہئے افسوس کہ اس امت کو واقعہ کربلا تو یاد ہے پیغامِ کربلا یاد نہی اور آج امؓام حسین کے غم سے زیادہ اُن کے پیغام کا غم کرنا چاہیے کیونکہ امؓام حسین کل بھی زندہ تھے آج بھی زندہ ہیں وہ کل بھی زندہ آباد تھے وہ آج بھی زندہ آباد ہیں ہے یزیدیت چھلکتی اعمال سے ہمارے کیسے یہ ہم کہیں کہ حسینؓ ہیں ہمارے یزید پلید نے جو کچھ کیا اس کے لیے میرے پاس الفاظ نہی اُس کا سب سے بڑا گناہ یہ تھا کے اس نے دنیا کی سب سے بڑی توہینِ رسالتﷺ کی نبی پاکﷺ کی بوسہ گاہ کو خاک نشین کیا دیکھا جو زخمی بوسہ گاہ رسول کو غش آیا بہشت میں ہر ایک پھول کو کچھ لوگ آج یزید کو بے گناہ کہتے ہیں ان کے لیے بس یہ الفاظ کے اللّهﷻ آپ کی آخرت یزید کے ساتھ کرے نوٹ : اگر آپ میری کسی بات سے متفق نہی تو براے مہربانی اصلاح فرمائیں نہ کہ غلط اور گھٹیا باتیں, کر کے اپنی اصلیت دیکھایں ...
 
Abdul Malik Shar M.Phil Education
+923003194812   +923488613074








Comments

Popular Posts